Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
251 - 872
ہماری قوم کے تمام سرداروں کو قتل کر ڈالا ہے۔ اس کا بدلہ لینا ہمارا قومی فریضہ ہے لہٰذا ہماری خواہش ہے کہ قریش کی مشترکہ تجارت میں امسال جتنا نفع ہوا ہے وہ سب قوم کے جنگی فنڈ میں جمع ہو جانا چاہیے اوراس رقم سے بہترین ہتھیار خرید کر اپنی لشکری طاقت بہت جلد مضبوط کر لینی چاہیے اور پھر ایک عظیم فوج لے کر مدینہ پر چڑھائی کرکے بانیء اسلام اور مسلمانوں کو دنیا سے نیست و نابود کر دینا چاہیے۔ ابو سفیان نے خوشی خوشی قریش کی اس درخواست کو منظور کر لیا۔ لیکن قریش کو جنگ ِ بدر سے یہ تجربہ ہوچکاتھاکہ مسلمانوں سے لڑنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آندھیوں اورطوفانوں کا مقابلہ، سمندر کی موجوں سے ٹکرانا،پہاڑوں سے ٹکر لینا بہت آسان ہے مگر محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے عاشقوں سے جنگ کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنی جنگی طاقت میں بہت زیادہ اضافہ کرنا نہایت ضروری خیال کیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے ہتھیاروں کی تیاری اور سامان جنگ کی خریداری میں پانی کی طرح روپیہ بہانے کے ساتھ ساتھ پورے عرب میں جنگ کا جوش اور لڑائی کا بخار پھیلانے کے لئے بڑے بڑے شاعروں کو منتخب کیاجو اپنی آتش بیانی سے تمام قبائل عرب میں جوشِ انتقام کی آگ لگا دیں ''عمروجمحی'' اور ''مسافع'' یہ دونوں اپنی شاعری میں طاق اورآتش بیانی میں شہرهٔ آفاق تھے، ان دونوں نے باقاعدہ دورہ کرکے تمام قبائل عرب میں ایسا جوش اور اشتعال پیدا کر دیا کہ بچہ بچہ ''خون کا بدلہ خون'' کا نعرہ لگاتے ہوئے مرنے اور مارنے پر تیار ہو گیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک بہت بڑی فوج تیار ہو گئی۔ مردوں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے معزز اور مالدار گھرانوں کی عورتیں بھی جوش انتقام سے لبریز ہو کر فوج میں شامل ہو گئیں۔جن کے باپ،بھائی،بیٹے،شوہر