Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
250 - 872
    آٹھواں باب

                     ہجرت کا تیسرا سال

                          ۳ھ؁

جنگ ِاُحد
اس سال کاسب سے بڑا واقعہ ''جنگ ِ اُحد'' ہے۔ ''احد'' ایک پہاڑ کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تقریباً تین میل دور ہے۔ چونکہ حق و باطل کا یہ عظیم معرکہ اسی پہاڑ کے دامن میں درپیش ہوااسی لئے یہ لڑائی ''غزوهٔ اُحد'' کے نام سے مشہور ہے اور قرآن مجید کی مختلف آیتوں میں اس لڑائی کے واقعات کا خداوند عالم نے تذکرہ فرمایا ہے۔
جنگ ِ اُحد کا سبب
یہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ جنگ ِ بدر میں ستر کفار قتل اور ستر گرفتار ہوئے تھے۔ اور جو قتل ہوئے ان میں سے اکثر کفارِ قریش کے سردار بلکہ تاجدار تھے۔ اس بنا پر مکہ کا ایک ایک گھر ماتم کدہ بنا ہوا تھا۔ اور قریش کا بچہ بچہ جوشِ انتقام میں آتش غیظ و غضب کا تنور بن کر مسلمانوں سے لڑنے کے لئے بے قرار تھا۔ عرب خصوصاً قریش کا یہ طرهٔ امتیاز تھا کہ وہ اپنے ایک ایک مقتول کے خون کا بدلہ لینے کو اتنا بڑا فرض سمجھتے تھے جس کو ادا کئے بغیر گویا ان کی ہستی قائم نہیں رہ سکتی تھی۔ چنانچہ جنگ ِ بدر کے مقتولوں کے ماتم سے جب قریشیوں کو فرصت ملی تو انہوں نے یہ عزم کر لیا کہ جس قدر ممکن ہو جلد سے جلد مسلمانوں سے اپنے مقتولوں کے خون کا بدلہ لینا چاہیے۔ چنانچہ ابو جہل کا بیٹا عکرمہ اور اُمیہ کا لڑکا صفوان اور دوسرے کفارِ قریش جن کے باپ،بھائی،بیٹے جنگ ِ بدر میں قتل ہو چکے تھے سب کے سب ابو سفیان کے پاس گئے اور کہا کہ مسلمانوں نے
Flag Counter