| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
جنگ ِ بدر میں قتل ہوئے تھے۔ ان عورتوں نے قسم کھا لی تھی کہ ہم اپنے رشتہ داروں کے قاتلوں کا خون پی کر ہی دم لیں گی۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ہند کے باپ عتبہ اور جبیر بن مطعم کے چچا کو جنگ ِ بدر میں قتل کیا تھا۔ اس بنا پر ''ہند'' نے ''وحشی'' کو جو جبیر بن مطعم کا غلام تھا حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قتل پر آمادہ کیااور یہ وعدہ کیا کہ اگر اس نے حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دیا تو وہ اس کارگزاری کے صلہ میں آزاد کر دیاجائے گا۔(1)
مدینہ پر چڑھائی
الغرض بے پناہ جوش و خروش اور انتہائی تیاری کے ساتھ لشکر کفار مکہ سے روانہ ہوااور ابو سفیان اس لشکر جرار کا سپہ سالار بنا۔ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو خفیہ طور پر مسلمان ہو چکے تھے اور مکہ میں رہتے تھے انہوں نے ایک خط لکھ کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کفارِ قریش کی لشکر کشی سے مطلع کر دیا۔(2) جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خوفناک خبر ملی تو آپ نے ۵شوال ۳ھ کو حضرت عدی بن فضالہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دونوں لڑکوں حضرت انس اور حضرت مونس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو جاسوس بنا کر کفارِ قریش کے لشکر کی خبر لانے کے لئے روانہ فرمایا۔ چنانچہ ان دونوں نے آکر یہ پریشان کن خبر سنائی کہ ابو سفیان کا لشکر مدینہ کے بالکل قریب آ گیا ہے اور ان کے گھوڑے مدینہ کی چراگاہ (عریض) کی تمام گھاس چر گئے۔
مسلمانوں کی تیاری اور جوش
یہ خبر سن کر ۱۴ شوال ۳ ھ جمعہ کی رات میں حضرت سعد بن معاذ و حضرت
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و الزرقانی،باب غزوۃ احد، ج۲،ص۳۸۶۔۳۹۱ ملتقطاً و ملخصاً 2۔۔۔۔۔۔کتاب المغازی للواقدی ، غزوۃ احد،ج۱،ص۲۰۳،۲۰۴