| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے اس کا تعاقب کیا لیکن ابو سفیان بدحواس ہو کر اس قدر تیزی سے بھاگاکہ بھاگتے ہوئے اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے ستو کی بوریاں جو وہ اپنی فوج کے راشن کے لئے لایا تھاپھینکتا چلا گیاجو مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ عربی زبان میں ستو کو سویق کہتے ہیں اسی لئے اس غزوہ کا نام غزوہ سویق پڑ گیا۔(1)
(مدارج جلد۲ ص۱۰۴)حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شادی
اسی سال ۲ھ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سب سے پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شادی خانہ آبادی حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے ساتھ ہوئی۔یہ شادی انتہائی وقار اور سادگی کے ساتھ ہوئی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ حضرات ابوبکر صدیق و عمر و عثمان و عبدالرحمن بن عوف اور دوسرے چند مہاجرین و انصار رضوان اﷲ علیہم اجمعین کو مدعو کریں۔ چنانچہ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جمع ہو گئے توحضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اورنکاح پڑھا دیا۔ شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شہزادی اسلام حضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو جہیز میں جو سامان دیااس کی فہرست یہ ہے۔ ایک کملی، بان کی ایک چارپائی، چمڑے کا گدا جس میں روئی کی جگہ کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، ایک چھاگل، ایک مشک، دو چکیاں، دو مٹی کے گھڑے ۔ حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپناایک مکان حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس لئے نذر کر دیا کہ اس میں حضرت علی اور حضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سکونت فرمائیں۔ جب حضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا رخصت
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم، باب دوم، ج۲،ص۱۰۴