Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
247 - 872
غزوه سویق
یہ ہم تحریر کر چکے ہیں کہ جنگ ِ بدر کے بعد مکہ کے ہر گھر میں سرداران قریش کے قتل ہو جانے کا ماتم برپا تھااور اپنے مقتولوں کا بدلہ لینے کے لئے مکہ کا بچہ بچہ مضطرب اور بے قرار تھا۔ چنانچہ غزوهٔ سویق اور جنگ ِاُحد وغیرہ کی لڑائیاں مکہ والوں کے اسی جوشِ انتقام کا نتیجہ ہیں۔ 

عتبہ اور ابو جہل کے قتل ہو جانے کے بعد اب قریش کا سردارِ اعظم ابوسفیان تھا اور اس منصب کا سب سے بڑا کام غزوهٔ بدر کا انتقام تھا۔ چنانچہ ابو سفیان نے قسم کھا لی کہ جب تک بدر کے مقتولوں کا مسلمانوں سے بدلہ نہ لوں گا نہ غسل جنابت کروں گانہ سر میں تیل ڈالوں گا۔ چنانچہ جنگ ِ بدرکے دو ماہ بعد ذوالحجہ   ۲ھ؁ میں ابو سفیان دو سو شترسواروں کا لشکر لے کر مدینہ کی طرف بڑھا ۔اس کو یہودیوں پر بڑا بھروسا بلکہ ناز تھا کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ اس کی امداد کریں گے۔ اسی امید پر ابو سفیان پہلے 'حیی بن اخطب'' یہودی کے پاس گیا مگر اس نے دروازہ بھی نہیں کھولا۔ وہاں سے مایوس ہو کر سلام بن مشکم سے ملا جو قبیلہ بنو نضیر کے یہودیوں کا سردار تھااور یہود کے تجارتی خزانہ کا مینجر بھی تھا اس نے ابو سفیان کا پرجوش استقبال کیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ
Flag Counter