کے قریب پہنچاتوحضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو پکڑ لیااور اس کا گلہ دبائے اور گردن پکڑے ہوئے دربار رسالت میں لے گئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں عمیر!کس ارادہ سے آئے ہو؟ جوا ب دیا کہ اپنے بیٹے کو چھڑانے کے لیے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے او ر صفوان نے حطیم کعبہ میں بیٹھ کر میرے قتل کی سازش نہیں کی ہے؟ عمیریہ راز کی بات سن کر سناٹے میں آگیااور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ اﷲ عزوجل کے رسول ہیں کیونکہ خدا کی قسم!میرے اور صفوان کے سوا اس راز کی کسی کو بھی خبر نہ تھی۔ ادھر مکہ میں صفوان حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کی خبر سننے کے لیے انتہائی بے قرار تھااو ر د ن گن گن کر عمیر کے آنے کا انتظار کر رہا تھا مگر جب اس نے ناگہاں یہ سنا کہ عمیر مسلمان ہو گیا تو فرطِ حیرت سے اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور وہ بوکھلا گیا۔
حضرت عمیر مسلما ن ہو کر مکہ آئے اور جس طرح وہ پہلے مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے اب وہ کافروں کی جان کے دشمن بن گئے اور انتہائی بے خوفی اور بہادری کے ساتھ مکہ میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے یہاں تک کہ ان کی دعوت اسلام سے بڑے بڑے کافروں کے اندھیرے دلوں میں نورایمان کی روشنی سے اُجالا ہوگیا اور یہی عمیر اب صحابی رسول حضرت عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہلانے لگے۔ (1)(تاریخ طبری ص۱۳۵۴)