Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
245 - 872
ایک بہت ہی عظیم الشان فضیلت یہ ہے کہ ان سعادت مندو ں کے بارے میں حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ

''بے شک اﷲ تعالیٰ اہل بدر سے واقف ہے اور اس نے یہ فرمادیا ہے کہ تم اب جو عمل چاہو کرو بلاشبہ تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے یا(یہ فرمایا) کہ میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔''(1) (بخاری باب فضل من شہد بدرًاج ۲ص۵۶۷)
ابو لہب کی عبر تناک موت
ابو لہب جنگ ِبدر میں شریک نہیں ہو سکا۔ جب کفارِ قریش شکست کھا کر مکہ واپس آئے تو لوگوں کی زبانی جنگ ِبدر کے حالات سن کر ابو لہب کو انتہائی رنج و ملال ہوا۔ اس کے بعد ہی وہ بڑی چیچک کی بیماری میں مبتلا ہو گیا جس سے اس کا تمام بدن سڑ گیااور آٹھویں دن مر گیا۔عرب کے لوگ چیچک سے بہت ڈرتے تھے اور اس بیماری میں مرنے والے کو بہت ہی منحوس سمجھتے تھے اس لیے اس کے بیٹوں نے بھی تین دن تک اس کی لاش کو ہاتھ نہیں لگایا مگر اس خیال سے کہ لوگ طعنہ ماریں گے ایک گڑھا کھود کر لکڑیوں سے دھکیلتے ہوئے لے گئے اور اس گڑھے میں لاش کو گرا کر اوپر سے مٹی ڈال دی اوربعض مورخین نے تحریر فرمایا کہ دور سے لوگوں نے اس گڑھے میں اس قدر پتھر پھینکے کہ ان پتھروں سے اس کی لاش چھپ گئی۔ (2) (زُرقانی ج ۱ص۴۵۲)
غزوہ بنی قینقاع
رمضان   ۲ھ؁ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ ِ بدر کے معرکہ سے واپس ہوکر
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب المغازی ،باب فضل من شھد بدراً،الحدیث:۳۹۸۳، ج۳،ص۱۲

2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و الزرقانی ، باب غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲،ص۳۴۰۔۳۴۱
Flag Counter