ایک دن عمیر او رصفوان دونوں حطیم کعبہ میں بیٹھے ہوئے مقتولین بدر پر آنسو بہا رہے تھے۔ ایک دم صفوا ن بول اُٹھا کہ اے عمیر! میر ا باپ اوردوسرے رو سائے مکہ جس طرح بدر میں قتل ہوئے ان کو یاد کر کے سینے میں دل پاش پاش ہو رہا ہے اور اب زندگی میں کوئی مزہ باقی نہیں رہ گیا ہے ۔ عمیر نے کہا کہ اے صفوان!تم سچ کہتے ہو میرے سینے میں بھی انتقام کی آگ بھڑک رہی ہے، میر ے اعزہ وا قر باء بھی بدر میں بے دردی کے ساتھ قتل کئے گئے ہیں اور میر ا بیٹا مسلمانوں کی قید میں ہے۔ خدا کی قسم! اگر میں قرضدار نہ ہوتا اور بال بچوں کی فکر سے دو چار نہ ہوتا تو ابھی ابھی میں تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کرمدینہ جاتااور دم زدن میں دھوکہ سے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )کو قتل کر کے فرار ہو جاتا۔ یہ سن کر صفوان نے کہا کہ اے عمیر!تم اپنے قرض اور بچوں کی ذرا بھی فکر نہ کرو۔میں خدا کے گھر میں عہد کرتا ہوں کہ تمہارا ساراقرض ادا کردوں گااور میں تمہارے بچوں کی پرورش کا بھی ذمہ دار ہوں۔ اس معاہدہ کے بعد عمیر سیدھا گھر آیا اور زہر میں بجھائی ہو ئی تلوار لے کر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ جب مدینہ میں مسجد نبوی