| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہے کہ یقینا آپ اﷲعزوجل کے رسول ہیں کیونکہ اس مال کا علم میرے اور میری بیوی ام الفضل کے سوا کسی کو نہیں تھا۔ چنانچہ حضرت عباس نے اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں اور اپنے حلیف کا فدیہ ادا کرکے رہائی حاصل کی پھر اس کے بعد حضرت عباس اور حضرت عقیل اور حضرت نوفل تینوں مشرف بہ اسلام ہو گئے ۔(1) (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۹۷ و زُرقانی ج۱ ص۴۴۷)
حضرت زینب کا ہار
جنگِ بدر کے قیدیوں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے داماد ابو العاص بن الربیع بھی تھے۔ یہ ہالہ بنت خویلد کے لڑکے تھے اور ہالہ حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی حقیقی بہن تھیں اس لئے حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے مشورہ لے کر اپنی لڑکی حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا ابو العاص بن الربیع سے نکاح کر دیا تھا۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو آپ کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے تو اسلام قبول کر لیا مگر ان کے شوہر ابوالعاص مسلمان نہیں ہوئے اور نہ حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو اپنے سے جدا کیا ۔ ابو العاص بن الربیع نے حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس قاصد بھیجا کہ فدیہ کی رقم بھیج دیں۔ حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو ان کی والدہ حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے جہیز میں ایک قیمتی ہار بھی دیا تھا۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فدیہ کی رقم کے ساتھ وہ ہار بھی اپنے گلے سے اتار کر مدینہ بھیج دیا۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نظر اس ہار پر پڑی تو حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اور ان کی محبت کی یاد نے قلب
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،باب چہارم ، قسم دوم، ج۲،ص۹۷وشرح الزرقانی علی المواھب، غزوۃ بدرالکبریٰ ، ج۲،ص۳۲۰،۳۲۳