Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
241 - 872
مبارک پر ایسا رقت انگیز اثر ڈالا کہ آپ رو پڑے اور صحابہ سے فرمایا کہ ''اگر تم لوگوں کی مرضی ہو تو بیٹی کو اس کی ماں کی یادگار واپس کر دو''یہ سن کر تمام صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے سرتسلیم خم کر دیا اور یہ ہار حضرت بی بی زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس مکہ بھیج دیا گیا۔ (1)                         (تاریخ طبری ص ۱۳۴۸)

ابوالعاص رہاہوکرمدینہ سے مکہ آئے اور حضرت بی بی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مدینہ بھیج دیا۔ ابوالعاص بہت بڑے تاجر تھے یہ مکہ سے اپنا سامان تجارت لے کر شام گئے اور وہاں سے خوب نفع کما کر مکہ آرہے تھے کہ مسلمان مجاہدین نے ان کے قافلہ پر حملہ کرکے ان کا سارا مال و اسباب لوٹ لیا اور یہ مالِ غنیمت تمام سپاہیوں پر تقسیم بھی ہوگیا۔ ابو العاص چھپ کر مدینہ پہنچے اور حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ان کو پناہ دے کر اپنے گھر میں اتارا ۔ حضو ر صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ اگر تم لوگوں کی خوشی ہو تو ابوالعاص کا مال و سامان واپس کردو۔ فرمانِ رسالت کا اشارہ پاتے ہی تمام مجاہدین نے سارا مال و سامان ابو العاص کے سامنے رکھ دیا۔ ابو العاص اپنا سارا مال و اسباب لے کر مکہ آئے اور اپنے تمام تجارت کے شریکوں کو پائی پائی کا حساب سمجھا کر اور سب کو اس کے حصہ کی رقم ادا کر کے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیااور اہل مکہ سے کہہ دیا کہ میں یہاں آکر اور سب کا پورا پورا حساب ادا کر کے مدینہ جاتا ہوں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ابوالعاص ہمارا روپیہ لے کر تقاضا کے ڈر سے مسلمان ہوکر مدینہ بھاگ گیا۔اس کے بعد حضرت ابو العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مدینہ آکر حضرت بی بی زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ رہنے لگے۔(2) (تاریخ طبری)
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ذکر رؤیا عاتکۃ...الخ،ص۲۷۰

2۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، اسلام ابی العاص بن الربیع،ص۲۷۲
Flag Counter