انصار نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ درخواست عرض کی کہ یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت عباس ہمارے بھانجے ہیں لہٰذا ہم ان کا فدیہ معاف کرتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ درخواست منظور نہیں فرمائی۔ حضرت عباس قریش کے ان دس دولت مند رئیسوں میں سے تھے جنہوں نے لشکر کفار کے راشن کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی، اس غرض کے لئے حضرت عباس کے پاس بیس اوقیہ سونا تھا۔ چونکہ فوج کو کھانا کھلانے میں ابھی حضرت عباس کی باری نہیں آئی تھی اس لئے وہ سونا ابھی تک ان کے پاس محفوظ تھا۔ اس سونے کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں شامل فرما لیا اور حضرت عباس سے مطالبہ فرمایا کہ وہ اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو بن جحدم چار شخصوں کا فدیہ ادا کریں۔ حضرت عباس نے کہا کہ میرے پاس کوئی مال ہی نہیں ہے، میں کہاں سے فدیہ ادا کروں؟ یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چچا جان!آپ کا وہ مال کہاں ہے؟ جو آپ نے جنگ ِ بدر کے لئے روانہ ہوتے وقت اپنی بیوی ''ام الفضل'' کو دیا تھا اور یہ کہا تھا اگر میں اس لڑائی میں مار ا جاؤں تو اس میں سے اتنا اتنا مال میرے لڑکوں کو دے دینا۔ یہ سن کر حضرت عباس نے کہا کہ قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا