| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
قیدیوں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس کے بدن پر کرتا نہیں تھا لیکن وہ اتنے لمبے قدکے آدمی تھے کہ کسی کا کرتا ان کے بدن پر ٹھیک نہیں اترتا تھا عبداﷲ بن اُبی(منافقین کا سردار)چونکہ قدمیں ان کے برابر تھااس لئے اس نے اپنا کرتاان کوپہنادیا۔بخاری میں یہ روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے عبداﷲ بن اُبی کے کفن کے لئے جو اپنا پیراہن شریف عطا فرمایا تھا وہ اسی احسان کا بدلہ تھا۔ (1) (بخاری باب الکسوۃ للاساری ج۱ ص۴۲۲)
اسیرانِ جنگ کا انجام
ان قیدیوں کے بارے میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے مشورہ فرمایا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رائے دی کہ اِن سب دشمنانِ اسلام کو قتل کر دینا چاہیے اور ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے قریبی رشتہ دار کو اپنی تلوار سے قتل کرے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ آخر یہ سب لوگ اپنے عزیز و اقارب ہی ہیں لہٰذا انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ ان لوگوں سے بطور فدیہ کچھ رقم لے کر ان سب کو رہا کر دیا جائے۔ اس وقت مسلمانوں کی مالی حالت بہت کمزور ہے فدیہ کی رقم سے مسلمانوں کی مالی امداد کا سامان بھی ہو جائے گا اور شاید آئندہ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام کی توفیق نصیب فرمائے۔ حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی سنجیدہ رائے کو پسند فرمایا اور ان قیدیوں سے چارچار ہزار درہم فدیہ لے کر ان لوگوں کو چھوڑ دیا۔ جو لوگ مفلسی کی و جہ سے فدیہ نہیں دے سکتے تھے وہ یوں ہی بلا فدیہ چھوڑ دئیے گئے۔
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجھاد والسیر،باب الکسوۃ للاساری،الحدیث: ۳۰۰۸،ج۲،ص ۳۱۳