Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
237 - 872
عنہ کو فتح مبین کی خوشخبری سنانے کے لئے مدینہ بھیج دیا تھا۔ چنانچہ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یہ خوشخبری لے کر جب مدینہ پہنچے تو تمام اہل مدینہ جوش مسرت کے ساتھ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد کے انتظار میں بے قرار رہنے لگے اور جب تشریف آوری کی خبر پہنچی تواہل مدینہ نے آگے بڑھ کر مقام ''روحاء''میں آپ کا پر جوش استقبال کیا۔(1)     (ابن ہشام ج۲ ص۶۴۳)
قیدیوں کے ساتھ سلوک
کفار مکہ جب اسیران جنگ بن کر مدینہ میں آئے توان کو دیکھنے کے لئے بہت بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا اور لوگ ان کو دیکھ کر کچھ نہ کچھ بولتے رہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت بی بی سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ان قیدیوں کو دیکھنے کے لئے تشریف لائیں اور یہ دیکھا کہ ان قیدیوں میں ان کے ایک قریبی رشتہ دار ''سہیل'' بھی ہیں تو وہ بے ساختہ بول اٹھیں کہ ''اے سہیل!تم نے بھی عورتوں کی طرح بیڑیاں پہن لیں تم سے یہ نہ ہو سکا کہ بہادر مردوں کی طرح لڑتے ہوئے قتل ہوجاتے۔'' (2)                        (سیرت ابن ہشام ج۲ ص۶۴۵)

ان قیدیوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ میں تقسیم فرما دیا اور یہ حکم دیا کہ ان قیدیوں کو آرام کے ساتھ رکھا جائے۔ چنانچہ دودو،چار چار قیدی صحابہ کے گھروں میں رہنے لگے اور صحابہ نے ان لوگوں کے ساتھ یہ حسن سلوک کیا کہ ان لوگوں کو گوشت روٹی وغیرہ حسب مقدور بہترین کھانا کھلاتے تھے اور خود کھجوریں کھا کر رہ جاتے تھے۔(3)(ابن ہشام ج ۲ ص ۶۴۶)
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۶۵،۲۶۶ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃلابن ہشام،غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۶۷

3۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃلابن ہشام،غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۶۷ملتقطاًوملخصاً
Flag Counter