Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
236 - 872
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَآءَ اللہُ بِکُمْ لَلاَحِقُوْنَ نَسْأَلُ اللہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ (1)
(مشکوٰۃباب زیارۃالقبورص۱۵۴)
ان حدیثوں سے ظاہر ہے کہ مردے زندوں کا سلام و کلام سنتے ہیں ورنہ ظاہر ہے کہ جو لوگ سنتے ہی نہیں ان کو سلام کرنے سے کیا حاصل ؟
مدینہ کو واپسی
فتح کے بعد تین دن تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ''بدر'' میں قیام فرمایا پھر تمام اموال غنیمت اور کفار قیدیوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب ''وادی صفرا'' میں پہنچے تو اموالِ غنیمت کو مجاہدین کے درمیان تقسیم فرمایا۔

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا جو حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں جنگ ِ بدر کے موقع پر بیمار تھیں اس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوصاحبزادی کی تیمارداری کے لئے مدینہ میں رہنے کاحکم دے دیاتھااس لئے وہ جنگ بدرمیں شامل نہ ہوسکے مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے ان کو مجاہدین بدر کے برابر ہی حصہ دیا اور ان کے برابر ہی اجروثواب کی بشارت بھی دی اسی لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بھی اصحاب بدر کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔(2)
مجاہدین بدر کا استقبال
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح کے بعد حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،الفصل الاول،الحدیث:۱۷۶۴،ج۱،ص۳۳۳

2۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، من حضر بدراً...الخ، ص۲۸۲
Flag Counter