| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
میں میری جان ہے کہ تم(زندہ لوگ) میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن سکتے لیکن اتنی بات ہے کہ یہ مردے جواب نہیں دے سکتے۔(1)
(بخاری ج۱ ص۱۸۳، باب ماجاء فی عذاب القبر و بخاری ج۲ ص۵۶۶)ضروری تنبیہ
بخاری وغیرہ کی اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ جب کفار کے مردے زندوں کی بات سنتے ہیں تو پھر مومنین خصوصاً اولیاء، شہداء،انبیاء علیہم السلام وفات کے بعد یقینا ہم زندوں کا سلام و کلام اور ہماری فریادیں سنتے ہیں اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب کفار کی مردہ لاشوں کو پکارا توپھر خدا کے برگزیدہ بندوں یعنی ولیوں، شہیدوں اور نبیوں کو ان کی وفات کے بعد پکارنا بھلا کیوں نہ جائز و درست ہوگا؟ اسی لئے تو حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب مدینہ کے قبرستان میں تشریف لے جاتے تو قبروں کی طرف اپنا رخِ انور کرکے یوں فرماتے کہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَ ثَرِ(2)
(مشکوٰۃ باب زیارۃ القبورص۱۵۴)
یعنی ''اے قبر والو!تم پر سلام ہو خدا ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔'' اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بھی یہی حکم دیا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس کی تعلیم دیتے تھے کہ جب تم لوگ قبروں کی زیارت کے لئے جاؤ تو
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب قتل ابی جھل،الحدیث:۳۹۷۶،ج۳،ص۱۱ والمواہب اللدنیۃ و الزرقانی ، باب غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲،ص۳۰۵-۳۰۷ 2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،الفصل الثانی،الحدیث:۱۷۶۵،ج۱،ص۳۳۴