Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
234 - 872
بدر کا گڑھا
حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہمیشہ یہ طرز عمل رہا کہ جہاں کبھی کوئی لاش نظر آتی تھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کو دفن کروا دیتے تھے لیکن جنگ ِ بدر میں قتل ہونے والے کفار چونکہ تعداد میں بہت زیادہ تھے، سب کو الگ الگ دفن کرنا ایک دشوار کام تھا اس لئے تمام لاشوں کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دینے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تمام لاشوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر گڑھے میں ڈال دیا۔ اُمیہ بن خلف کی لاش پھول گئی تھی، صحابۂ کرام نے اس کو گھسیٹنا چاہا تو اس کے اعضاء الگ الگ ہونے لگے اس لئے اس کی لاش وہیں مٹی میں دبا دی گئی۔(1)                 ( بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جہل ج۲ ص۵۶۶)
کفار کی لاشوں سے خطاب
جب کفار کی لاشیں بدر کے گڑھے میں ڈال دی گئیں تو حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس گڑھے کے کنارے کھڑے ہو کر مقتولین کا نام لے کر اس طرح پکارا کہ اے عتبہ بن ربیعہ!اے شیبہ بن ربیعہ!اے فلاں!اے فلاں!کیا تم لوگوں نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا؟ ہم نے تو اپنے رب کے وعدہ کو بالکل ٹھیک ٹھیک سچ پایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب دیکھا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کفار کی لاشوں سے خطاب فرما رہے ہیں توان کو بڑا تعجب ہوا۔ چنانچہ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ ان بے روح کے جسموں سے کلام فرما رہے ہیں؟یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر! قسم خدا کی جس کے قبضۂ قدرت
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و الزرقانی ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲،ص۳۰۳
Flag Counter