Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
232 - 872
حضرت بلال اور انصار رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے ان کی ٹانگوں کے اندر ہاتھ ڈال کر اور بغل سے تلوار گھونپ گھونپ کر اس کو قتل کر دیا۔(1)(بخاری ج۱ ص۳۰۸ باب اذاوکل المسلم حربیًا)
فرشتوں کی فوج
جنگ بدر میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتوں کا لشکر اتار دیا تھا۔ پہلے ایک ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار ہو گئے اس کے بعد پانچ ہزار ہو گئے۔(2) (قرآن سورہ آل عمران وانفال )

جب خوب گھمسان کارن پڑا تو فرشتے کسی کو نظر نہیں آتے تھے مگر ان کی حرب و ضرب کے اثرات صاف نظر آتے تھے۔ بعض کافروں کی ناک اور منہ پر کوڑوں کی مار کا نشان پایا جاتا تھا، کہیں بغیر تلوار مارے سر کٹ کر گرتا نظر آتا تھا، یہ آسمان سے آنے والے فرشتوں کی فوج کے کارنامے تھے۔
کفار نے ہتھیار ڈال دئیے
عتبہ، شیبہ، ابو جہل وغیرہ کفار قریش کے سرداروں کی ہلاکت سے کفار مکہ کی کمر ٹوٹ گئی اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ ہتھیار ڈال کر بھاگ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں نے ان لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔

اس جنگ میں کفار کے ستر آدمی قتل اور ستر آدمی گرفتار ہوئے۔ باقی اپنا سامان چھوڑ کر فرار ہو گئے اس جنگ میں کفارِ مکہ کو ایسی زبردست شکست ہوئی کہ ان کی عسکری طاقت ہی فنا ہو گئی۔ کفار قریش کے بڑے بڑے نامور سردار جو بہادری اور فن سپہ گری
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الوکالۃ،باب اذا وکل المسلم حربیاً...الخ،الحدیث:۲۳۰۱،ج۲،ص۷۸

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲،ص۲۸۶
Flag Counter