| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
منع فرمایا ہے اس لئے میں تجھ کو چھوڑ دیتا ہوں۔ ابوالبختری نے کہا کہ میرے ساتھی جنادہ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ تو حضرت مجذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ اس کو ہم زندہ نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ سن کر ابو البختری طیش میں آ گیا اور کہا کہ میں عرب کی عورتوں کا یہ طعنہ سننا پسند نہیں کر سکتا کہ ابو البختری نے اپنی جان بچانے کے لئے اپنے ساتھی کو تنہا چھوڑ دیا۔ یہ کہہ کر ابو البختری نے رجز کا یہ شعر پڑھا کہ ؎ لَنْ یُّسْلِمَ ابْنُ حُرَّۃٍ زَمِیْلَہٗ حَتّٰی یَمُوْتَ اَوْیَرٰی سَبِیْلَہٗ ایک شریف زادہ اپنے ساتھی کو کبھی ہر گز نہیں چھوڑ سکتاجب تک کہ مر نہ جائے یا اپنا راستہ نہ دیکھ لے۔(۱)
اُمیّہ کی ہلاکت
اُمیہ بن خلف بہت ہی بڑا دشمن رسول تھا۔ جنگ بدر میں جب کفر و اسلام کے دونوں لشکر گتھم گتھا ہو گئے تو اُمیہ اپنے پرانے تعلقات کی بنا پر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے چمٹ گیا کہ میری جان بچائیے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو رحم آ گیا اور آپ نے چاہا کہ اُمیہ بچ کر نکل بھاگے مگر حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُمیہ کو دیکھ لیا ۔حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب اُمیہ کے غلام تھے تو اُمیہ نے ان کو بہت زیادہ ستایا تھا اس لئے جوشِ انتقام میں حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انصار کو پکارا، انصاری لوگ دفعۃً ٹوٹ پڑے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُمیہ سے کہا کہ تم زمین پر لیٹ جاؤ وہ لیٹ گیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس کو بچانے کے لئے اس کے اوپر لیٹ کر اس کو چھپانے لگے لیکن
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ،ص۲۶۰