| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
حضرت معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما چونکہ یہ دونوں انصاری تھے اور انصار کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے اور قبیلۂ قریش کے لوگ کسانوں کو بڑی حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے تھے اس لئے ابو جہل نے کسانوں کے ہاتھ سے قتل ہونے کو اپنے لئے قابل افسوس بتایا۔ جنگ ختم ہو جانے کے بعد حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت عبداﷲ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر جب ابو جہل کی لاش کے پاس سے گزرے تو لاش کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ ابو جہل اس زمانے کا ''فرعون'' ہے۔ پھر عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ابو جہل کا سر کاٹ کر تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں پر ڈال دیا۔(1) (بخاری غزوه بدر و دلائل النبوۃ ج۲ ص۱۷۳)
ابو البختری کا قتل
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ کچھ لوگ کفار کے لشکر میں ایسے بھی ہیں جن کو کفار مکہ دباؤ ڈال کر لائے ہیں ایسے لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔ ان لوگوں کے نام بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بتا دئیے تھے۔ انہی لوگوں میں سے ابو البختری بھی تھا جو اپنی خوشی سے مسلمانوں سے لڑنے کے لئے نہیں آیا تھابلکہ کفار قریش اس پر دباؤ ڈال کر زبردستی کرکے لائے تھے۔ عین جنگ کی حالت میں حضرت مجذر بن ذیادرضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نظر ابوالبختری پر پڑی جو اپنے ایک گہرے دوست جنادہ بن ملیحہ کے ساتھ گھوڑے پر سوار تھا۔ حضرت مجذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے ابوالبختری!چونکہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو تیرے قتل سے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب ۱۰،الحدیث:۳۹۸۸،ج۳،ص۱۴وکتاب فرض الخمس،باب من لم یخمس الاسلاب...الخ،الحدیث:۳۱۴۱،ج۲،ص۳۵۶