ایک ایسا تاک کر تیر مارا کہ وہ عمرو بن الحضرمی کولگا اور وہ اسی تیر سے قتل ہو گیااور عثمان وحکم کو ان لوگوں نے گرفتا ر کر لیا، نوفل بھاگ نکلا۔ حضرت عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اونٹوں اور ان پر لدے ہوئے مال و اسباب کو مال غنیمت بنا کر مدینہ لوٹ آئے او ر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں اس مال غنیمت کا پانچواں حصہ پیش کیا۔ (1) (زُرقانی علی المواہب ج۱ص۳۹۸)
جو لوگ قتل یا گرفتار ہوئے وہ بہت ہی معزز خاندان کے لوگ تھے۔ عمرو بن الحضرمی جو قتل ہوا عبداﷲ حضرمی کابیٹا تھا۔ عمرو بن الحضرمی پہلا کافر تھا جو مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا گیا۔ جو لوگ گرفتار ہوئے یعنی عثمان او ر حکم، ان میں سے عثمان تو مغیرہ کا پوتا تھا جو قریش کا ایک بہت بڑا رئیس شمار کیا جاتا تھا اور حکم بن کیسان ہشام بن المغیرہ کا آزاد کردہ غلام تھا۔ اس بنا پر اس واقعہ نے تمام کفار قریش کو غیظ و غضب میں آگ بگولہ بنا دیااور ''خون کابدلہ خون''لینے کا نعرہ مکہ کے ہر کوچہ و بازار میں گونجنے لگااور در حقیقت جنگ بدر کا معرکہ اسی واقعہ کا رد عمل ہے۔ چنانچہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جنگ بدر اور تمام لڑائیاں جو کفار قریش سے ہوئیں ان سب کا بنیادی سبب عمرو بن الحضرمی کا قتل ہے جس کو حضرت و اقدبن عبداﷲ تمیمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تیر مار کر قتل کردیا تھا۔ (2) (تاریخ طبری ص۱۲۸۴)