Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
208 - 872
سریۂ عبد اﷲ بن جحش
اسی سال ماہ رجب   ۲ھ ؁میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عبد اﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو امیر لشکر بنا کران کی ماتحتی میں اٹھ یا بارہ مہاجرین کا ایک جتھ روانہ فرمایا، دو دو آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عبدا ﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو لفافہ میں ایک مہر بند خط دیا اور فرمایا کہ دو دن سفر کرنے کے بعد اس لفافہ کو کھول کر پڑھنا اور اس میں جو ہدایات لکھی ہوئی ہیں ان پر عمل کرنا۔ جب خط کھول کر پڑھا تو اس میں یہ درج تھا کہ تم طائف اور مکہ کے درمیان مقام ''نخلہ'' میں ٹھہر کر قریش کے قافلوں پر نظر رکھواور صورت حال کی ہمیں برابر خبر دیتے رہو۔ یہ بڑا ہی خطر ناک کام تھا کیونکہ دشمنوں کے عین مرکز میں قیام کر کے جاسوسی کرنا گویاموت کے منہ میں جاناتھامگریہ سب جاں نثاربے دھڑک مقام ''نخلہ'' پہنچ گئے۔ عجیب اتفاق کہ رجب کی آخری تاریخ کو یہ لوگ نخلہ میں پہنچے اور اسی دن کفار قریش کا ایک تجارتی قافلہ آیا جس میں عمرو بن الحضرمی اور عبدا ﷲبن مغیرہ کے دو لڑکے عثمان ونوفل اور حکم بن کیسان وغیرہ تھے اوراونٹوں پر کھجور اور دوسرا مالِ تجارت لداہوا تھا۔

امیرسریہ حضرت عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ اگر ہم ان قافلہ والوں کو چھوڑ دیں تو یہ لوگ مکہ پہنچ کر ہم لوگوں کی یہاں موجودگی سے مکہ والوں کو باخبر کردیں گے اور ہم لوگوں کو قتل یا گرفتار کر ادیں گے اور اگر ہم ان لوگوں سے جنگ کریں تو آج رجب کی آخری تاریخ ہے لہٰذا شہر حرام میں جنگ کرنے کا گناہ ہم پر لازم ہو گا۔ آخریہی رائے قرار پائی کہ ا ن لوگوں سے جنگ کر کے اپنی جان کے خطرہ کودفع کرنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت و اقد بن عبداﷲ تمیمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے
Flag Counter