Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
210 - 872
جہاں زمانۂ جاہلیت میں سالانہ میلہ لگتاتھا۔ یہاں ایک کنواں بھی تھا جس کے مالک کا نام ''بدر''تھا اسی کے نام پر اس جگہ کا نام '' بدر'' رکھ دیا گیا۔ اسی مقام پر جنگ ِبدر کا وہ عظیم معرکہ ہوا جس میں کفار ِقریش اور مسلمانوں کے درمیان سخت خونریزی ہوئی اور مسلمانوں کو وہ عظیم الشان فتح مبین نصیب ہوئی جس کے بعد اسلام کی عزت و اقبال کا پرچم اتنا سر بلند ہوگیا کہ کفار قریش کی عظمت و شوکت بالکل ہی خاک میں مل گئی۔ اﷲ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن کا نام ''یومُ الفرقان'' رکھا۔(1) قرآن کی سورۂ انفال میں تفصیل کے ساتھ اور دوسری سورتوں میں اجمالاً باربار اس معرکہ کا ذکر فرمایا اور اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح مبین کے بارے میں احسان جتاتے ہوئے خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ
وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنۡتُمْ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾ (2)
اوریقینا خداوند تعالیٰ نے تم لوگوں کی مدد فرمائی بدر میں جبکہ تم لوگ کمزور اور بے سروسامان تھے تو تم لوگ اﷲ سے ڈرتے رہوتاکہ تم لوگ شکر گزار ہو جاؤ۔
جنگ بدر کا سبب
جنگ ِبدر کا اصلی سبب تو جیسا کہ ہم تحریر کر چکے ہیں''عمرو بن الحضرمی'' کے قتل سے کفار قریش میں پھیلا ہوا زبردست اشتعال تھا جس سے ہر کافر کی زبان پریہی ایک نعرہ تھاکہ '' خون کا بدلہ خو ن لے کر رہیں گے۔''
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و الزرقانی، باب غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲،ص۲۵۵۔۲۵۶

2۔۔۔۔۔۔پ۴،اٰل عمرٰن: ۱۲۳
Flag Counter