| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
لے گئے مگر کفار قریش کا کہیں سامنا نہیں ہوا اس لیے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بغیر کسی جنگ کے مدینہ واپس تشریف لائے۔(1)(زرقانی علی المواہب ج۱ص۳۹۳)
غزوۂ سفوان
اسی سال ''کرزبن جابر فہری'' نے مدینہ کی چراگاہ میں ڈاکہ ڈالااور کچھ اونٹوں کو ہانک کر لے گیا۔حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں اپنا خلیفہ بنا کراور حضر ت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو علمبردار بنا کر صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ وادی سفوان تک اس ڈاکو کا تعاقب کیامگر وہ اس قدر تیزی کے ساتھ بھاگا کہ ہاتھ نہیں آیااور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے۔ وادی سفوان '' بدر''کے قریب ہے اسی لیے بعض مؤرخین نے اس غزوہ کانام'' غزوۂ بدرِاولیٰ'' رکھا ہے۔ اس لیے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ غزوۂ سفوان او ر غزوۂ بد رِ اولیٰ دونوں ایک ہی غزوہ کے دو نام ہیں۔ (2) (مدارج جلد ۲ص ۷۹)
غزوۂ ذی العُشیرہ
اسی ۲ھ میں کفار قریش کا ایک قافلہ مال تجارت لے کر مکہ سے شام جا رہا تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ڈیڑھ سو یا دو سو مہاجرین صحابہ کو ساتھ لے کر اس قافلہ کا راستہ روکنے کے لیے مقام''ذی العشیرہ''تک تشریف لے گئے جو ''ینبوع''کی بندرگاہ کے قریب ہے مگر یہاں پہنچ کر معلوم ہواکہ قافلہ بہت آگے بڑھ گیاہے۔ اس لیے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا مگر یہی قافلہ جب شام سے واپس لوٹااور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی مزاحمت کے لیے نکلے تو جنگ بدر کا معرکہ پیش آگیاجس کا مفصل ذکر آگے آتا ہے۔ (3)(زرقانی ج ۱ص۳۹۵)
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ والزرقانی ، غزوۃ بواط،ج۲،ص۲۳۱،۲۳۲ 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم، باب دوم ، ج۲،ص۷۹ 3۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و الزرقانی، غزوۃ العشیرۃ،ج۲، ص۲۳۲۔۲۳۴