اس غزوہ کو ''غزوہ ودان'' بھی کہتے ہیں۔ یہ سب سے پہلا غزوہ ہے یعنی پہلی مرتبہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جہادکے ارادہ سے ماہ صفر ۲ھ میں ساٹھ مہاجرین کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ سے باہر نکلے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں اپنا خلیفہ بنایااور حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو جھنڈادیااور مقام ''ابواء''تک کفار کا پیچھا کرتے ہوئے تشریف لے گئے مگر کفار مکہ فرارکرچکے تھے اس لیے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ ''ابواء'' مدینہ سے اسّی میل دور ایک گاؤں ہے جہاں حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کا مزار ہے۔ یہاں چند دن ٹھہر کر قبیلہ بنو ضمرہ کے سردار ''مخشی بن عمرو ضمری'' سے امدا دباہمی کا ایک تحریری معاہدہ کیااور مدینہ واپس تشریف لائے اس غزوہ میں پندرہ دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ سے باہر رہے۔(1) (زرقانی علی المواہب ج۱ص۳۹۳)