Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
206 - 872
غزوہ ابو اء
اس غزوہ کو ''غزوہ ودان'' بھی کہتے ہیں۔ یہ سب سے پہلا غزوہ ہے یعنی پہلی مرتبہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جہادکے ارادہ سے ماہ صفر   ۲ھ ؁ میں ساٹھ مہاجرین کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ سے باہر نکلے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں اپنا خلیفہ بنایااور حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو جھنڈادیااور مقام ''ابواء''تک کفار کا پیچھا کرتے ہوئے تشریف لے گئے مگر کفار مکہ فرارکرچکے تھے اس لیے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ ''ابواء'' مدینہ سے اسّی میل دور ایک گاؤں ہے جہاں حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کا مزار ہے۔ یہاں چند دن ٹھہر کر قبیلہ بنو ضمرہ کے سردار ''مخشی بن عمرو ضمری'' سے امدا دباہمی کا ایک تحریری معاہدہ کیااور مدینہ واپس تشریف لائے اس غزوہ میں پندرہ دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ سے باہر رہے۔(1) (زرقانی علی المواہب ج۱ص۳۹۳)
غزوۂ بواط
ہجرت کے تیرھویں مہینے   ۲ھ؁ میں مدینہ پر حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حاکم بنا کر دو سو مہاجرین کو ساتھ لے کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جہاد کی نیت سے روانہ ہوئے۔ اس غزوہ کا جھنڈا بھی سفید تھااور علمبردار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ اس غزوہ کا مقصد کفار مکہ کے ایک تجارتی قافلہ کا راستہ روکنا تھا۔ اس قافلہ کا سالار ''امیہ بن خلف جمحی'' تھا اور اس قافلہ میں ایک سوقریشی کفار اور ڈھائی ہزار اونٹ تھے۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس قافلہ کی تلاش میں مقام ''بواط'' تک تشریف
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،اول المغازی،ج۲،ص۲۲۹،۲۳۰والسیرۃ الحلبیۃ، 

باب ذکرمغازیہ،ج۲ ، ص۱۷۳،۱۷۴ملتقطاً
Flag Counter