| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
جائے تونو سال میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چھوٹی بڑی '' چھیاسٹھ'' لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا''غزوات وسرایا''کا عنوان حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرتِ مقدسہ کا بہت ہی عظیم الشان حصہ ہے اور بحمدہ تعالیٰ ان تمام غزوات و سرا یااور ان کے وجوہ و اسباب کا پورا پوراحال اسلامی تاریخوں میں مذکور و محفوظ ہے،مگر یہ اتنا لمبا چوڑا مضمون ہے کہ ہماری اس کتاب کا تنگ دامن ان تمام مضامین کو سمیٹنے سے بالکل ہی قاصر ہے لیکن بڑی مشکل یہ ہے کہ اگر ہم بالکل ہی ان مضامین کو چھوڑ دیں تو یقینا ''سیرتِ رسول'' کا مضمون بالکل ہی ناقص اور نامکمل رہ جائے گا اس لیے مختصر طور پر چند مشہور غزوات و سرایا کا یہاں ذکر کر دینا نہایت ضروری ہے تاکہ سیرتِ مقدسہ کایہ اہم باب بھی ناظرین کے لیے نظر افروز ہو جائے ۔
سریۂ حمزہ
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے، ہجرت کے بعد جب جہاد کی آیت نازل ہوگئی تو سب سے پہلے جو ایک چھوٹا سا لشکر کفار کے مقابلہ کے لیے روانہ فرمایا اس کا نام ''سریۂ حمزہ'' ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوایک سفیدجھنڈاعطافرمایااوراس جھنڈے کے نیچے صرف۳۰ مہاجرین کو ایک لشکر کفار کے مقابلہ کے لیے بھیجاجو تین سو کی تعداد میں تھے اور ابوجہل ان کا سپہ سالار تھا۔حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ''سیف البحر'' تک پہنچے اور دونوں طرف سے جنگ کے لیے صف بندی بھی ہو گئی لیکن ایک شخص مجدی بن عمرو جہنی نے جو دونوں فریق کا حلیف تھابیچ میں پڑ کر لڑائی موقوف کر ادی۔(1)(مدارج جلد ۲ص۷۸ و زُر قانی ج ۱ص۳۹۰)
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ والزرقانی، بعث حمزۃ،ج۲،ص۲۲۴ومدارج النبوت، قسم سوم، با ب دوم،ج ۲، ص۷۸