Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
203 - 872
پر''اکیس ''اور بعض کے نزدیک ''چوبیس'' ہے اور بعض نے کہا کہ ''پچیس '' اور بعض نے لکھا ''چھبیس'' ہے۔(1) (زرقانی علی المواہب ج ۱ص۳۸۸)

مگر حضرت امام بخاری نے حضرت زید بن ارقم صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے جو روایت تحریر کی ہے اس میں غزوات کی کل تعداد''انیس'' بتائی گئی ہے (2)اور ان میں سے جن نو غزوات میں جنگ بھی ہوئی وہ یہ ہیں۔

(۱)جنگ بدر (۲)جنگ اُحد (۳)جنگ احزاب (۴)جنگ بنوقریظہ (۵)جنگ بنوالمصطلق(۶)جنگ خیبر(۷)فتح مکہ(۸)جنگ حنین(۹)جنگ طائف(3)

''سرایا''یعنی جن لشکروں کےساتھ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے ان کی تعداد بعض مورخین کے نزدیک ''سینتالیس''اور بعض کے نزدیک ''چھپن '' ہے۔ 

امام بخاری نے محمدبن اسحق سے روایت کیاہے کہ سب سے پہلاغزوہ ''ابواء'' اور سب سے آخری غزوہ''تبوک'' ہے اور سب سے پہلا ''سریہ'' جو مدینہ سے جنگ کے لیے روانہ ہوا وہ ''سریۂ حمزہ'' ہے جس کا ذکر آگے آتا ہے۔(4)
غزوات و سرایا
ہجرت کے بعدکا تقریباً کل زمانہ ''غزوات و سرایا'' کے اہتمام وانتظام میں گزرااس لیے کہ اگر'' غزوات''کی کم سے کم تعداد جو روایات میں آئی ہے۔ یعنی ''انیس'' اور ''سرایا'' کی کم سے کم تعداد جو روایتوں میں ہے یعنی '' سینتالیس'' شمار کرلی
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، کتاب المغازی، ج۲،ص۲۲۰

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ، کتاب المغازی، باب غزوۃ العشیرۃ...الخ، الحدیث:۳۹۴۹، ج۳،ص۳

3۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، کتاب المغازی، ج۲،ص۲۲۱

4۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، کتاب المغازی، ج۲،ص۲۲۱،۲۲۹، ۲۲۴ملتقطاً
Flag Counter