Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
202 - 872
    دوم۔یہ کہ مدینہ کے اطراف میں جو قبائل آباد ہیں ان سے امن و امان کا معاہدہ ہو جائے تا کہ کفار مکہ مدینہ پر حملہ کی نیت نہ کر سکیں۔ چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہی دو تدبیروں کے پیش نظر صحابہ کرام کے چھوٹے چھوٹے لشکروں کو مدینہ کے اطراف میں بھیجنا شروع کر دیااور بعض بعض لشکروں کے ساتھ خود بھی تشریف لے گئے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے یہ چھوٹے چھوٹے لشکر کبھی کفار مکہ کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کے لئے جاتے تھے اور کہیں بعض قبائل سے معاہدۂ امن و امان کرنے کے لئے روانہ ہوتے تھے۔ کہیں اس مقصد سے بھی جاتے تھے کہ کفارِ مکہ کی شامی تجارت کا راستہ بند ہو جائے۔ اسی سلسلہ میں کفارِ مکہ اور ان کے حلیفوں سے مسلمانوں کا ٹکراؤ شروع ہوااور چھوٹی بڑی لڑائیوں کاسلسلہ شروع ہو گیاانہی لڑائیوں کو تاریخ اسلام میں ''غزوات و سرایا'' کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔
غزوہ و سریّہ کا فرق
یہاں مصنفین سیرت کی یہ اصطلاح یاد رکھنی ضروری ہے کہ وہ جنگی لشکر جس کے ساتھ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے اس کو ''غزوہ''کہتے ہیں اور وہ لشکروں کی ٹولیاں جن میں حضورعلیہ الصلوٰۃوالسلام شامل نہیں ہوئے ان کو ''سرِیّہ''کہتے ہیں۔ (1) (مدارج النبوۃ ج ۲ص۷۶وغیرہ )

''غزوات ''یعنی جن جن لشکروں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شریک ہوئے ان کی تعداد میں مورخین کا اختلاف ہے ۔''مواہب لدنیہ'' میں ہے کہ ''غزوات''کی تعداد ''ستائیس''ہے اورروضۃ الاحباب میں یہ لکھاہے کہ''غزوات کی تعداد''ایک قول کی بنا
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم سوم ، با ب دوم، ج۲،ص۷۶وشرح الزرقانی علی المواھب، 

کتاب المغازی، ج۲، ص۲۱۹،۲۲۰
Flag Counter