Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
201 - 872
سے روکا تو ہم تمہاری شام کی تجارت کا راستہ روک دیں گے۔(1) (بخاری کتاب المغازی ج۲ص۵۶۳ )

    (۳)کفارِ مکہ نے صرف انہی دھمکیوں پر بس نہیں کیابلکہ وہ مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کرنے لگے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے قتل عام کا منصوبہ بنانے لگے ۔چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم راتوں کو جاگ جاگ کر بسر کرتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کا پہرہ دیا کرتے تھے۔ کفار مکہ نے سارے عرب پر اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے تمام قبائل میں یہ آگ بھڑکا دی تھی کہ مدینہ پر حملہ کرکے مسلمانوں کو دنیا سے نیست و نابود کرنا ضروری ہے۔

مذکورہ بالاتینوں وجوہات کی موجودگی میں ہر عاقل کو یہ کہنا ہی پڑے گا کہ ان حالات میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حفاظت خود اختیاری کے لئے کچھ نہ کچھ تدبیر کرنی ضروری ہی تھی تا کہ انصار و مہاجرین اور خود اپنی زندگی کی بقاء اور سلامتی کا سامان ہوجائے۔

چنانچہ کفارِ مکہ کے خطرناک ارادوں کا علم ہو جانے کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی اور صحابہ کی حفاظت خود اختیاری کے لئے دو تدبیروں پر عمل درآمد کا فیصلہ فرمایا۔

    اوّل۔یہ کہ کفار مکہ کی شامی تجارت جس پر ان کی زندگی کا دارومدار ہے اس میں رکاوٹ ڈال دی جائے تا کہ وہ مدینہ پر حملہ کا خیال چھوڑ دیں اور صلح پر مجبور ہو جائیں۔
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ، کتاب المغازی، باب ذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم من یقتل 

ببدر،الحدیث:۳۹۵۰، ج۳،ص۳
Flag Counter