کہ تم نے ہمارے آدمی(محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی ہے ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یا تو تم لوگ ان کو قتل کر دو یا مدینہ سے نکال دو ورنہ ہم سب لوگ تم پر حملہ کر دیں گے اور تمہارے تمام لڑنے والے جوانوں کو قتل کرکے تمہاری عورتوں پر تصرف کریں گے۔(1)(ابو داؤد ج۲ ص۶۷ باب فی خبر النفیر)
جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کفار مکہ کے اس تہدید آمیز اور خوفناک خط کی خبر معلوم ہوئی تو آپ نے عبداﷲ بن اُبی سے ملاقات فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ''کیا تم اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو قتل کرو گے۔'' چونکہ اکثر انصار دامن اسلام میں آ چکے تھے اس لئے عبداﷲ بن اُبی نے اس نکتہ کو سمجھ لیا اور کفار مکہ کے حکم پر عمل نہیں کر سکا۔
(۲)ٹھیک اسی زمانے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو قبیلہ اوس کے سردار تھے عمرہ ادا کرنے کے لئے مدینہ سے مکہ گئے اور پرانے تعلقات کی بنا پر ''اُمیہ بن خلف''کے مکان پر قیام کیا۔ جب اُمیہ ٹھیک دوپہر کے وقت ان کو ساتھ لے کر طوافِ کعبہ کے لئے گیا تو اتفاق سے ابو جہل سامنے آ گیا اور ڈانٹ کر کہا کہ اے اُمیہ! یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ اُمیہ نے کہا کہ یہ مدینہ کے رہنے والے ''سعد بن معاذ'' ہیں۔ یہ سن کر ابو جہل نے تڑپ کر کہا کہ تم لوگوں نے بے دھرموں( محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ) کو اپنے یہاں پناہ دی ہے۔ خدا کی قسم! اگر تم اُمیہ کے ساتھ میں نہ ہوتے تو بچ کر واپس نہیں جاسکتے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی انتہائی جرأت اور دلیری کے ساتھ یہ جواب دیا کہ اگر تم لوگوں نے ہم کو کعبہ کی زیارت