کرانا یہ عین حکمت اور بنی نوع انسان کی صلاح و فلاح کے لئے انتہائی ضروری تھا۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ ہجرت کے بعد جتنی لڑائیاں بھی ہوئیں اگر پورے ماحول کو گہری نگاہ سے بغور دیکھا جائے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب لڑائیاں کفار کی طرف سے مسلمانوں کے سر پر مسلط کی گئیں اور غریب مسلمان بدرجۂ مجبوری تلوار اٹھانے پر مجبور ہوئے ۔مثلاً مندرج ذیل چند واقعات پر ذرا تنقیدی نگاہ سے نظر ڈالیے۔
(۱)حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اپنا سب کچھ مکہ میں چھوڑ کر انتہائی بیکسی کے عالم میں مدینہ چلے آئے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ کفار مکہ اب اطمینان سے بیٹھ رہتے کہ ان کے دشمن یعنی رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمان ان کے شہر سے نکل گئے مگر ہوا یہ کہ ان کافروں کے غیظ و غضب کا پارہ اتنا چڑھ گیا کہ اب یہ لوگ اہل مدینہ کے بھی دشمن جان بن گئے۔ چنانچہ ہجرت کے چند روزبعد کفار مکہ نے رئیس انصار ''عبداﷲ بن ابی'' کے پاس دھمکیوں سے بھرا ہو ایک خط بھیجا ۔ ''عبداﷲ بن ابی'' وہ شخص ہے کہ واقعۂ ہجرت سے پہلے تمام مدینہ والوں نے اس کو اپنا بادشاہ مان کر اس کی تاج پوشی کی تیاری کر لی تھی مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کے بعدیہ اسکیم ختم ہو گئی۔ چنانچہ اسی غم و غصہ میں عبداﷲ بن اُبی عمر بھر منافقوں کا سردار بن کر اسلام کی بیخ کنی کرتا رہا اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہا۔(1) (بخاری باب التسلیم فی مجلس فیہ اخلاط ج۲ ص۹۲۴)
بہر کیف کفار مکہ نے اس دشمن اسلام کے نام جو خط لکھا اس کا مضمون یہ ہے