| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیۡرُۨ ﴿ۙ۳۹﴾ (1)
جن سے لڑائی کی جاتی ہے (مسلمان) ان کو بھی اب لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ (مسلمان) مظلوم ہیں اورخدا ان کی مدد پریقینا قادر ہے حضرت امام محمد بن شہاب زہریعلیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ جہاد کی اجازت کے بارے میں یہی وہ آیت ہے جو سب سے پہلے نازل ہوئی۔(2) مگر تفسیر ابن جریر میں ہے کہ جہاد کے بارے میں سب سے پہلے جو آیت اتری وہ یہ ہے۔
وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمْ (3)
خداکی راہ میں ان لوگوں سے لڑوجو تم لوگوں سے لڑتے ہیں۔(بقرہ) بہر حال ۲ھ میں مسلمانوں کو خداوند تعالیٰ نے کفار سے لڑنے کی اجازت دے دی مگر ابتداء میں یہ اجازت مشروط تھی یعنی صرف انہیں کافروں سے جنگ کرنے کی اجازت تھی جو مسلمانوں پر حملہ کریں۔ مسلمانوں کو ابھی تک اس کی اجازت نہیں ملی تھی کہ وہ جنگ میں اپنی طرف سے پہل کریں لیکن حق واضح ہو جانے اور باطل ظاہر ہو جانے کے بعدچونکہ تبلیغ حق اور احکام الٰہی کی نشرواشاعت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر فرض تھی اس لئے تمام اُن کفار سے جو عناد کے طور پر حق کو قبول کرنے سے انکار کرتے تھے جہاد کا حکم نازل ہو گیا خواہ وہ مسلمانوں سے لڑنے میں پہل کریں یا نہ کریں کیونکہ حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد حق کو قبول کرنے کے لئے مجبور کرنا اور باطل کو جبراً ترک
1۔۔۔۔۔۔پ۱۷،الحج :۳۹ 2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، کتاب المغازی،ج۲،ص۲۱۸ 3۔۔۔۔۔۔تفسیر الطبری لابن جریر،پ۲،البقرۃ تحت الآیۃ:۱۹۰،ج۲،ص۱۹۵وشرح الزرقانی علی المواھب، کتاب المغازی ،ج۲،ص۲۱۸