Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
194 - 872
اﷲ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی ہیں پیدا ہوتے ہی ان کو لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں۔ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو اپنی گود میں بٹھا کر اور کھجور چبا کر ان کے منہ میں ڈال دی۔ اس طرح سب سے پہلی غذا جو ان کے شکم میں پہنچی وہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا لعابِ دہن تھا۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی پیدائش سے مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی اس لئے کہ مدینہ کے یہودی کہا کرتے تھے کہ ہم لوگوں نے مہاجرین پر ایسا جادو کر دیا ہے کہ ان لوگوں کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہی نہیں ہو گا۔ (1) (زرقانی ج۱ ص۴۶۰ و اکمال)
ساتواں باب

               ہجرت کا دوسرا سال

۲ ھ ؁
۱ھ؁ کی طرح   ۲ھ؁ میں بھی بہت سے اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے جن میں سے چند بڑے بڑے واقعات یہ ہیں:
قبلہ کی تبدیلی
جب تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ میں رہے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے مگر ہجرت کے بعد جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو خداوند تعالیٰ کایہ حکم ہوا کہ آپ اپنی نمازوں میں ''بیت المقدس'' کو اپنا قبلہ بنائیں۔ چنانچہ آپ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے رہے مگر آپ کے دل کی تمنا یہی تھی کہ کعبہ ہی کو قبلہ بنایا جائے۔ چنانچہ آپ اکثر آسمان کی طرف چہرہ اٹھا اٹھا
1۔۔۔۔۔۔اکمال فی اسماء الرجال لصاحب المشکوٰۃ، حرف العین ، ص۶۰۴والسیرۃ 

الحلبیۃ، باب ہجرۃ الی المدینۃ، ج۲،ص۱۱۰
Flag Counter