کفار کے دوبہت ہی بڑے بڑے سردار بھی مر کر مردار ہو گئے۔ ایک ''عاص بن وائل سہمی'' جو حضرت عمرو بن العاص صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فاتح مصر کا باپ تھا۔ دوسرا ''ولید بن مغیرہ'' جو حضرت خالد سیف اﷲ صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا باپ تھا۔(1)
روایت ہے کہ ''ولید بن مغیرہ'' جاں کنی کے وقت بہت زیادہ بے چین ہو کر تڑپنے اور بے قرار ہو کر رونے لگا اور فریاد کرنے لگا توابوجہل نے پوچھا کہ چچا جان! آخر آپ کی بے قراری اور اس گریہ و زاری کی کیا و جہ ہے؟ تو ''ولید بن مغیرہ'' بولا کہ میرے بھتیجے! میں اس لئے اتنی بے قراری سے رو رہا ہوں کہ مجھے اب یہ ڈر ہے کہ میرے بعد مکہ میں محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا دین پھیل جائے گا ۔یہ سن کر ابو سفیان نے تسلی دی اور کہا کہ چچا! آپ ہر گزہر گز اس کا غم نہ کریں میں ضامن ہوتا ہوں کہ میں دین اسلام کو مکہ میں نہیں پھیلنے دوں گا۔(2) چنانچہ ابو سفیان اپنے اس عہد پر اس طرح قائم رہے کہ مکہ فتح ہونے تک وہ برابر اسلام کے خلاف جنگ کرتے رہے مگر فتح مکہ کے دن ابو سفیان نے اسلام قبول کر لیا اور پھر ایسے صادق الاسلام بن گئے کہ اسلام کی نصرت و حمایت کے لئے زندگی بھر جہاد کرتے رہے اور انہی جہادوں میں کفار کے تیروں سے ان کی آنکھیں زخمی ہو گئیں اور روشنی جاتی رہی ۔یہی وہ حضرت ابو سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں جن کے سپوت بیٹے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں۔ (مدارج النبوۃ ج۲ ص۷۳ وغیرہ)
اسی سال ۱ ھ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی۔ ہجرت کے بعد مہاجرین کے یہاں سب سے پہلا بچہ جو پیدا ہوا وہ یہی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں۔ ان کی والدہ حضرت بی بی اسماء جو حضرت ابوبکر صدیق رضی