Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
195 - 872
کر اس کے لئے وحیِ الٰہی کا انتظار فرماتے رہے یہاں تک کہ ایک دن اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی قلبی آرزو پوری فرمانے کے لئے قرآن کی یہ آیت نازل فرما دی کہ
قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ ۚ فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰىہَا ۪ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ (1)
ہم دیکھ رہے ہیں بار بار آپکا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ہم ضرور آپ کو پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں آپ کی خوشی ہے تو ابھی آپ پھیر دیجیے اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف(بقرہ)

چنانچہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قبیلۂ بنی سلمہ کی مسجد میں نمازِ ظہر پڑھا رہے تھے کہ حالت نما زہی میں یہ وحی نازل ہوئی اور نماز ہی میں آپ نے بیت المقدس سے مڑ کر خانہ کعبہ کی طرف اپنا چہرہ کر لیااور تمام مقتدیوں نے بھی آپ کی پیروی کی۔ اس مسجد کو جہاں یہ واقعہ پیش آیا ''مسجد القبلتین'' کہتے ہیں اور آج بھی یہ تاریخی مسجد زیارت گاہ خواص و عوام ہے جو شہر مدینہ سے تقریباً دوکیلو میٹر دور جانب شمال مغرب واقع ہے۔ 

اس قبلہ بدلنے کو'' تحویل قبلہ'' کہتے ہیں۔ تحویل قبلہ سے یہودیوں کو بڑی سخت تکلیف پہنچی جب تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے تو یہودی بہت خوش تھے اور فخر کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)بھی ہمارے ہی قبلہ کی طرف رُخ کرکے عبادت کرتے ہیں مگر جب قبلہ بدل گیا تو یہودی اس قدر برہم اور ناراض ہو گئے کہ وہ یہ طعنہ دینے لگے کہ محمد (صلی اﷲ
1۔۔۔۔۔۔پ۲،البقرۃ:۱۴۴
Flag Counter