Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
192 - 872
تین جاں نثاروں کی وفات
اس سال حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے تین نہایت ہی شاندار اور جاں نثار حضرات نے وفات پائی جو درحقیقت اسلام کے سچے جاں نثار اور بہت ہی بڑے معین و مددگار تھے۔

    اوّل۔ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یہ وہ خوش نصیب مدینہ کے رہنے والے انصاری ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر ''قبا'' میں تشریف لائے تو سب سے پہلے انہی کے مکان کو شرفِ نزول بخشا اور بڑے بڑے مہاجرین صحابہ بھی انہی کے مکان میں ٹھہرے تھے اور انہوں نے دونوں عالم کے میزبان کو اپنے گھر میں مہمان بنا کر ایسی میزبانی اور مہمان نوازی کی کہ قیامت تک تاریخ رسالت کے صفحات پر ان کا نام نامی ستاروں کی طرح چمکتا رہے گا۔

    دوم۔حضرت برا ء بن معرور انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یہ وہ شخص ہیں کہ ''بیعت عقبہ ثانیہ'' میں سب سے پہلے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی اور یہ اپنے قبیلہ ''خزرج'' کے نقیبوں میں تھے۔

    سوم۔حضرت اسعد بن زرارہ انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یہ بیعتِ عقبۂ اولیٰ اور بیعتِ عقبۂ ثانیہ کی دونوں بیعتوں میں شامل رہے اور یہ پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے مدینہ میں اسلام کا ڈنکا بجایا اور ہر گھر میں اسلام کا پیغام پہنچایا۔

جب مذکورہ بالا تینوں معززین صحابہ نے وفات پائی تو منافقین اور یہودیوں نے اس کی خوشی منائی اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو طعنہ دینا شروع کیا کہ اگر یہ پیغمبر ہوتے تو اﷲ تعالیٰ ان کو یہ صدمات کیوں پہنچاتا؟ خدا کی شان کہ ٹھیک اسی زمانے میں
Flag Counter