Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
191 - 872
کے ملک کی پوری آبادی مجوسی(آتش پرست) تھی۔ یہ اپنے آبائی دین سے بیزار ہو کر دین حق کی تلاش میں اپنے وطن سے نکلے مگر ڈاکوؤں نے ان کو گرفتار کرکے اپنا غلام بنا لیا پھر ان کو بیچ ڈالا۔چنانچہ یہ کئی بار بکتے رہے اور مختلف لوگوں کی غلامی میں رہے۔ اسی طرح یہ مدینہ پہنچے،کچھ دنوں تک عیسائی بن کر رہے اور یہودیوں سے بھی میل جول رکھتے رہے۔ اس طرح ان کو توریت و انجیل کی کافی معلومات حاصل ہو چکی تھیں۔ (1) یہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو پہلے دن تازہ کھجوروں کا ایک طباق خدمت اقدس میں یہ کہہ کر پیش کیا کہ یہ ''صدقہ'' ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو ہمارے سامنے سے اٹھا کر فقرا و مساکین کو دے دو کیونکہ میں صدقہ نہیں کھاتا۔ پھر دوسرے دن کھجوروں کا خوان لے کر پہنچے اور یہ کہہ کر کہ یہ ''ہدیہ''ہے سامنے رکھ دیا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہاتھ بڑھانے کااشارہ فرمایا اور خود بھی کھا لیا۔ اس درمیان میں حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان جو نظر ڈالی تو ''مہر نبوت'' کو دیکھ لیاچونکہ یہ توراۃ و انجیل میں نبی آخر الزمان کی نشانیاں پڑھ چکے تھے اس لئے فوراً ہی اسلام قبول کر لیا۔(2) (مدارج جلد۲ ص۷۱وغیرہ)
نمازوں کی رکعت میں اضافہ
اب تک فرض نمازوں میں صرف دوہی رکعتیں تھیں مگر ہجرت کے سال اول ہی میں جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ظہر و عصر وعشاء میں چار چار رکعتیں فرض ہو گئیں لیکن سفر کی حالت میں اب بھی وہی دو رکعتیں قائم رہیں اسی کو سفر کی حالت میں نمازوں میں ''قصر'' کہتے ہیں۔(3)(مدارج جلد۲ ص۷۱)
1۔۔۔۔۔۔الطبقات الکبریٰ لابن سعد،سلمان الفارسی ، ج۴،ص۵۶۔۵۹ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم سوم ، با ب اول، ج۲،ص۷۰۔۷۱

3۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم سوم ، با ب اول، ج۲،ص۷۱
Flag Counter