چونکہ مدینہ کی آب وہوااچھی نہ تھی یہاں طرح طرح کی وبائیں اور بیماریاں پھیلتی رہتی تھیں اس لئے کثرت سے مہاجرین بیمار ہونے لگے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ شدید لرزہ بخار میں مبتلا ہو کر بیمار ہو گئے اور بخار کی شدت میں یہ حضرات اپنے وطن مکہ کو یاد کرکے کفار مکہ پر لعنت بھیجتے تھے اور مکہ کی پہاڑیوں اور گھاسوں کے فراق میں اشعار پڑھتے تھے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ دعا فرمائی کہ یااﷲ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی ایسی ہی محبت ڈال دے جیسی مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور مدینہ کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے اور مدینہ کے صاع اورمُد(ناپ تول کے برتنوں)میں خیروبرکت عطا فرما اور مدینہ کے بخار کو ''جحفہ'' کی طرف منتقل فرما دے۔(2) (مدارج جلد ۲ ص۷۰ و بخاری)