Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
189 - 872
مضبوط محلات اور مستحکم قلعے بنا کر رہتے تھے۔ ہجرت سے پہلے یہودیوں اور انصار میں ہمیشہ اختلاف رہتا تھااور وہ اختلاف اب بھی موجود تھا اور انصار کے دونوں قبیلے اوس و خزرج بہت کمزور ہو چکے تھے۔ کیونکہ مشہور لڑائی ''جنگ بعاث'' میں ان دونوں قبیلوں کے بڑے بڑے سردار اور نامور بہادر آپس میں لڑ لڑ کر قتل ہو چکے تھے اور یہودی ہمیشہ اس قسم کی تدبیروں اور شرارتوں میں لگے رہتے تھے کہ انصارکے یہ دونوں قبائل ٖہمیشہ ٹکراتے رہیں اور کبھی بھی متحد نہ ہونے پائیں۔ ان وجوہات کی بنا پر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہودیوں اور مسلمانوں کے آئندہ تعلقات کے بارے میں ایک معاہدہ کی ضرورت محسوس فرمائی تا کہ دونوں فریق امن و سکون کے ساتھ رہیں اور آپس میں کوئی تصادم اور ٹکراؤ نہ ہونے پائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار اور یہودکوبلاکرمعاہدہ کی ایک دستاویزلکھوائی جس پردونوں فریقوں کے دستخط ہوگئے۔

اس معاہدہ کی دفعات کا خلاصہ حسب ِذیل ہے۔

(۱)خون بہا(جان کے بدلے جو مال دیا جاتا ہے) اور فدیہ(قیدی کو چھڑانے کے بدلے جو رقم دی جاتی ہے) کا جو طریقہ پہلے سے چلا آتا تھا اب بھی وہ قائم رہے گا۔

(۲)یہودیوں کو مذہبی آزادی حاصل رہے گی ان کے مذہبی رسوم میں کوئی دخل اندازی نہیں کی جائے گی۔

(۳)یہودی اور مسلمان باہم دوستانہ برتاؤ رکھیں گے۔ 

(۴)یہودی یا مسلمانوں کو کسی سے لڑائی پیش آئے گی تو ایک فریق دوسرے کی مدد کریگا۔

(۵)اگر مدینہ پر کوئی حملہ ہو گا تو دونوں فریق مل کر حملہ آور کا مقابلہ کریں گے۔