Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
188 - 872
تھے۔ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ''قینقاع'' کے بازار میں کھجوروں کی تجارت کرنے لگے۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی تجارت میں مشغول ہو گئے تھے۔ دوسرے مہاجرین نے بھی چھوٹی بڑی تجارت شروع کر دی۔ غرض باوجودیکہ مہاجرین کے لئے انصار کا گھر مستقل مہمان خانہ تھا مگر مہاجرین زیادہ دنوں تک انصار پر بوجھ نہیں بنے بلکہ اپنی محنت اور بے پناہ کوششوں سے بہت جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔

مشہور مؤرخِ اسلام حضرت علامہ ابن عبدالبررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے کہ یہ عقد مواخاۃ(بھائی چارہ کا معاہدہ) تو انصار و مہاجرین کے درمیان ہوا،اس کے علاوہ ایک خاص ''عقد مواخاۃ'' مہاجرین کے درمیان بھی ہوا جس میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک مہاجر کو دوسرے مہاجر کا بھائی بنا دیا ۔چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اور حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اور حضرت عثمان و حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے درمیان جب بھائی چارہ ہو گیا تو حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں عرض کیا کہ یارسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ نے اپنے صحابہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا لیکن مجھے آپ نے کسی کا بھائی نہیں بنایا آخر میرا بھائی کون ہے؟ تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
اَنْتَ اَخِیْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ
یعنی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (1)(مدارج النبوۃ ج۲ص۷۱)
یہودیوں سے معاہدہ
مدینہ میں انصار کے علاوہ بہت سے یہودی بھی آباد تھے۔ ان یہودیوں کے تین قبیلے بنو قینقاع،بنو نضیر،قریظہ مدینہ کے اطراف میں آباد تھے اور نہایت
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم سوم ، با ب اول، ج۲،ص۷۱
Flag Counter