Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
187 - 872
رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس مخلصانہ پیشکش کو سن کر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے شکریہ کے ساتھ یہ کہا کہ اﷲ تعالیٰ یہ سب مال و متاع اور اہل و عیال آ پ کو مبارک فرمائے مجھے تو آپ صرف بازار کا راستہ بتا دیجیے۔ انہوں نے مدینہ کے مشہور بازار ''قینقاع'' کا راستہ بتا دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بازار گئے اور کچھ گھی، کچھ پنیر خرید کر شام تک بیچتے رہے۔ اسی طرح روزانہ وہ بازار جاتے رہے اور تھوڑے ہی عرصہ میں وہ کافی مالدار ہو گئے اور ان کے پاس اتنا سرمایہ جمع ہو گیا کہ انہوں نے شادی کرکے اپنا گھر بسا لیا۔جب یہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے بیوی کو کتنا مہر دیا؟ عرض کیا کہ پانچ درہم برابر سونا ۔ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ تمہیں برکتیں عطا فرمائے تم دعوتِ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔(1) (بخاری، باب الولیمۃ ولو بشاۃ، ص۷۷۷ ،ج۲)

اور رفتہ رفتہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تجارت میں اتنی خیر و برکت اور ترقی ہوئی کہ خود ان کا قول ہے کہ ''میں مٹی کو چھو دیتا ہوں تو سونا بن جاتی ہے'' منقول ہے کہ ان کا سامان تجارت سات سو اونٹوں پر لد کر آتا تھاا ور جس دن مدینہ میں ان کا تجارتی سامان پہنچتا تھا تو تمام شہر میں دھوم مچ جاتی تھی۔ (2)

                 (اسد الغابہ، ج۳، ص۳۱۴)

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی طرح دوسرے مہاجرین نے بھی دکانیں کھول لیں ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کپڑے کی تجارت کرتے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب اخاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ، 

الحدیث:۳۷۸۱، ج۲،ص۵۵۵

2۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، ج۳،ص۴۹۸مختصراً
Flag Counter