دروازوں میں کواڑ بھی نہ تھے کمبل یا ٹاٹ کے پردے پڑے رہتے تھے۔(1) (طبقات ابن سعد وغیرہ)
اﷲ اکبر! یہ ہے شہنشاہ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وہ کاشانہ نبوت جس کی آستانہ بوسی اور دربانی جبریل علیہ السلام کے لئے سرمایہ سعادت اور باعث افتخار تھی۔
اﷲ اﷲ! وہ شہنشاہ کونین جس کو خالق کائنات نے اپنا مہمان بنا کر عرش اعظم پر مسند نشین بنایا اور جس کے سر پر اپنی محبوبیت کا تاج پہنا کر زمین کے خزانوں کی کنجیاں جس کے ہاتھوں میں عطا فرما دیں اور جس کو کائنات عالم میں قسم قسم کے تصرفات کا مختار بنا دیا، جس کی زَبان کا ہر فرمان کن کی کنجی، جس کی نگاہ کرم کے ایک اشارہ نے ان لوگوں کو جن کے ہاتھوں میں اونٹوں کی مہار رہتی تھی انہیں اقوامِ عالم کی قسمت کی لگام عطا فرما دی۔ اﷲ اکبر!وہ تاجدار رسالت جو سلطان دارین اور شہنشاہ کونین ہے اس کی حرم سرا کا یہ عالم! اے سورج!بول، اے چاند!بتاتم دونوں نے اس زمین کے بے شمار چکر لگائے ہیں مگر کیا تمہاری آنکھوں نے ایسی سادگی کا کوئی منظر کبھی بھی اور کہیں بھی دیکھا ہے؟