Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
182 - 872
اے اﷲ!بھلائی تو صرف آخرت ہی کی بھلائی ہے۔ لہٰذا اے اﷲ!تو انصارو مہاجرین کو بخش دے ۔اسی مسجد کا نام ''مسجد نبوی'' ہے۔ یہ مسجد ہر قسم کے دُنیوی تکلفات سے پاک اور اسلام کی سادگی کی سچی اور صحیح تصویر تھی، اس مسجد کی عمارتِ اوّل طول و عرض میں ساٹھ گز لمبی اور چون گز چوڑی تھی اور اس کا قبلہ بیت المقدس کی طرف بنایا گیا تھا مگر جب قبلہ بدل کر کعبہ کی طرف ہو گیا تو مسجد کے شمالی جانب ایک نیا دروازہ قائم کیا گیا۔ اس کے بعد مختلف زمانوں میں مسجد نبوی کی تجدید و توسیع ہوتی رہی۔

مسجد کے ایک کنارے پر ایک چبوترہ تھا جس پر کھجور کی پتیوں سے چھت بنا دی گئی تھی۔ اسی چبوترہ کا نام ''صفہ'' ہے جو صحابہ گھر بار نہیں رکھتے تھے وہ اسی چبوترہ پر سوتے بیٹھتے تھے اور یہی لوگ ''اصحاب صفہ'' کہلاتے ہیں۔ (1)    (مدارج النبوۃ،ج۲،ص۶۹وبخاری)
ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے مکانات
مسجد نبوی کے متصل ہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے لئے حجرے بھی بنوائے۔اس وقت تک حضرت بی بی سودہ اور حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نکاح میں تھیں اس لئے دوہی مکان بنوائے۔جب دوسری ازواجِ مطہرات آتی گئیں تو دوسرے مکانات بنتے گئے۔ یہ مکانات بھی بہت ہی سادگی کے ساتھ بنائے گئے تھے۔ دس دس ہاتھ لمبے چھ چھ،سات سات ہاتھ چوڑے کچی اینٹوں کی دیواریں، کھجور کی پتیوں کی چھت وہ بھی اتنی نیچی کہ آدمی کھڑا ہو کر چھت کو چھو لیتا،
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم سوم ، با ب اول، ج۲،ص۶۸ملخصاًوالمواہب اللدنیۃ 

والزرقانی،ذکر بناء المسجد النبوی...الخ،ج۲،ص۱۸۶
Flag Counter