Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
184 - 872
جس سے مہاجرین کی آبادکاری میں بڑی سہولت ہو گئی۔

سب سے پہلے جس انصاری نے اپنا مکان حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بطور ہبہ کے نذرکیااس خوش نصیب کانام نامی حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے، چنانچہ ازواجِ مطہرات کے مکانات حضرت حارثہ بن نعمان ہی کی زمین میں بنائے گئے۔ (1 ) (رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رُخصتی
حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے نکاح تو ہجرت سے قبل ہی مکہ میں ہو چکا تھا مگر ان کی رُخصتی ہجرت کے پہلے ہی سال مدینہ میں ہوئی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک پیالہ دودھ سے لوگوں کی دعوت ولیمہ فرمائی۔(2)     (مدارج النبوۃ، ج۲، ص۷۰)
اذان کی ابتداء
مسجد نبوی کی تعمیر تو مکمل ہو گئی مگر لوگوں کو نمازوں کے وقت جمع کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے نماز با جماعت کا انتظام ہوتا، اس سلسلہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشورہ فرمایا، بعض نے نمازوں کے وقت آگ جلانے کا مشورہ دیا، بعض نے ناقوس بجانے کی رائے دی مگر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے ان طریقوں کو پسند نہیں فرمایا۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ تجویز پیش کی کہ ہر نماز کے وقت کسی آدمی کو بھیج دیا جائے جو پوری مسلم آبادی میں نماز کا اعلان
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،ذکربناء المسجدالنبوی...الخ، ج۲، ص۱۸۵ ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم سوم ، با ب اول، ج۲،ص۶۹۔۷۰ملخصاً
Flag Counter