Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
179 - 872
ہجرت کا پہلا سال قسم قسم کے بہت سے واقعات کو اپنے دامن میں لئے ہے مگر ان میں سے چند بڑے بڑے واقعات کو نہایت اختصار کے ساتھ ہم تحریر کرتے ہیں۔
حضرت عبداﷲ بن سلام کا اسلام
حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مدینہ میں یہودیوں کے سب سے بڑے عالم تھے، خود ان کا اپنا بیان ہے کہ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ میں تشریف لائے اور لوگ جوق در جوق ان کی زیارت کے لئے ہر طرف سے آنے لگے تو میں بھی اُسی وقت خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور جونہی میری نظر جمالِ نبوت پر پڑی تو پہلی نظر میں میرے دل نے یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے وعظ میں یہ ارشاد فرمایا کہ
اَیُّھَا النَّاسُ اَفْشُوا السَّلَامَ وَاَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْاَرْحَامَ وَصَلُّوْا بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ
اے لوگو!سلام کا چرچا کرو اور کھانا کھلاؤ اور( رشتہ داروں کے ساتھ)صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جب لوگ سو رہے ہوں تو تم نماز پڑھو۔

حضرت عبداﷲ بن سلام فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایک نظر دیکھا اور آپ کے یہ چار بول میرے کان میں پڑے تو میں اس قدر متاثر ہوگیا کہ میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی اور میں مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا دامن اسلام میں آ جانا یہ اتنا اہم واقعہ تھا کہ مدینہ کے یہودیوں میں کھلبلی مچ گئی۔(1) (مدارج النبوۃ ج ۲ ص۶۶ و بخاری وغیرہ)
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم سوم ، با ب اول، ج۲،ص۶۶ملخصاًوالمستدرک للحاکم، 

کتاب البروالصلہ،باب ارحموا اہل الارض...الخ،الحدیث۷۳۵۹،ج۵،ص۲۲۱ملخصًا
Flag Counter