حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب کہ ابھی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان ہی میں تشریف فرما تھے آپ نے اپنے غلام حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابو رافع رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو پانچ سو درہم اور دو اونٹ دے کر مکہ بھیجا تا کہ یہ دونوں صاحبان اپنے ساتھ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اہل و عیال کو مدینہ لائیں۔ چنانچہ یہ دونوں حضرات جا کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں حضرت فاطمہ اور حضرت اُمِ کلثوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی زو جہ مطہرہ ام المومنین حضرت بی بی سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اور حضرت اسامہ بن زید اور حضرت اُمِ ایمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو مدینہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نہ آسکیں کیونکہ ان کے شوہر حضرت ابو العاص بن الربیع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو مکہ میں روک لیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی حضرت بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ''حبشہ'' میں تھیں۔ انہی لوگوں کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے فرزند حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی اپنے سب گھر والوں کو ساتھ لے کر مکہ سے مدینہ آ گئے ان میں حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بھی تھیں یہ سب لوگ مدینہ آکر پہلے حضرت حارثہ بن نعمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان پر ٹھہرے۔ (1) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۷۲)