شریف ہے اس کے پاس حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مکان تھا اُسی جگہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی اجازت سے آپ کا سامان اٹھا کر اپنے گھر میں لے گئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہی کے مکان پر قیام فرمایا۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اوپر کی منزل پیش کی مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ملاقاتیوں کی آسانی کا لحاظ فرماتے ہوئے نیچے کی منزل کو پسند فرمایا۔ حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دونوں وقت آپ کے لئے کھانا بھیجتے اور آپ کا بچا ہوا کھانا تبرک سمجھ کر میاں بیوی کھاتے۔ کھانے میں جہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی انگلیوں کا نشان پڑا ہوتا حصولِ برکت کے لئے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اسی جگہ سے لقمہ اُٹھاتے اور اپنے ہر قول و فعل سے بے پناہ ادب و احترام اور عقیدت و جاں نثاری کا مظاہرہ کرتے۔ ایک مرتبہ مکان کے اوپر کی منزل پر پانی کا گھڑا ٹوٹ گیاتو اس اندیشہ سے کہ کہیں پانی بہہ کر نیچے کی منزل میں نہ چلا جائے اور حضور رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کچھ تکلیف نہ ہو جائے، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے سارا پانی اپنے لحاف میں خشک کر لیا، گھر میں یہی ایک لحاف تھا جو گیلا ہو گیا۔ رات بھر میاں بیوی نے سردی کھائی مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ذرہ برابر تکلیف پہنچ جائے یہ گوارا نہیں کیا۔ سات مہینے تک حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اسی شان کے ساتھ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف حاصل کیا ۔جب مسجد نبوی اور اس کے آس پاس کے حجرے تیار ہو گئے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان حجروں میں اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ساتھ قیام پذیر ہوگئے۔(1) (زرقانی علی المواہب ،ج۱، ص۳۵۷ وغیرہ)