Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
177 - 872
نَحْنُ جَوَارٍ مِّنْ بَنِی النَّجَّارٖ		یَاحَبَّذا مُحَمَّدٌ مِّنْ جَارٖ
    ہم خاندان ''بنو النجار'' کی بچیاں ہیں، واہ کیا ہی خوب ہوا کہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہمارے پڑوسی ہو گئے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان بچیوں کے جوش مسرت اور ان کی والہانہ محبت سے متاثر ہو کر پوچھا کہ اے بچیو! کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟ تو بچیوں نے یک زبان ہو کر کہاکہ ''جی ہاں! جی ہاں۔'' یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوش ہو کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ''میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں۔'' (1)         (زرقانی علی المواہب ج۱ ص۳۵۹ و ۳۶۰)

چھوٹے چھوٹے لڑکے اور غلام جھنڈ کے جھنڈ مارے خوشی کے مدینہ کی گلیوں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد کا نعرہ لگاتے ہوئے دوڑتے پھرتے تھے۔ صحابی رسول براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو فرحت و سروراور انوار و تجلیات حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مدینہ میں تشریف لانے کے دن ظاہر ہوئے نہ اس سے پہلے کبھی ظاہر ہوئے تھے نہ اس کے بعد ۔(2) (مدارج النبوۃ ج ۲ ص۶۵)
ابو ایوب انصاری کا مکان
تمام قبائل انصار جو راستہ میں تھے انتہائی جوش مسرت کے ساتھ اونٹنی کی مہار تھام کر عرض کرتے یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ ہمارے گھروں کو شرفِ نزول بخشیں مگر آپ ان سب محبین سے یہی فرماتے کہ میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو جس جگہ خدا کو منظور ہو گا اسی جگہ میری اونٹنی بیٹھ جائے گی۔ چنانچہ جس جگہ آج مسجد نبوی
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،خاتمۃ فی وقائع متفرقۃ...الخ،ج۲،ص۱۵۶،۱۵۷، ۱۶۵۔۱۶۹ ملتقطاً وصحیح البخاری ، کتاب الصلٰوۃ، باب ھل تنبش قبور...الخ، الحدیث:۴۲۸،ج۱،ص۱۶۵

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم دوم ، با ب چہارم، ج۲،ص۶۳وشرح الزرقانی علی المواھب، خاتمۃ فی وقائع متفرقۃ...الخ،ج۲،ص۱۶۵ملخصاً
Flag Counter