Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
176 - 872
وبرکت کی دعائیں دیتے ہوئے چلے جا رہے تھے ۔ شہر قریب آگیا تو اہل مدینہ کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ پردہ نشین خواتین مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئیں اور یہ استقبالیہ اشعار پڑھنے لگیں کہ ؎
طَلَعَ لْبَدْرُ عَلَیْنَا			مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاع

وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا			مَا دَٰعی لِلّٰہِ دَاعِی
ہم پر چاند طلوع ہو گیا و داع کی گھاٹیوں سے، ہم پر خدا کا شکر واجب ہے۔ جب تک اﷲ سے دعاء مانگنے والے دعا مانگتے رہیں۔
اَیُّھَا الْمَبْعُوْثُ فِیْنَا		جِئْتَ بِالْاَمْرِ الْمُطَاع

اَنْتَ شَرَّفْتَ الْمَدِیْنَۃَ		مَرْحَبًا یَاخَیْرَ دَاعٖ
اے وہ ذات گرامی! جو ہمارے اندر مبعوث کئے گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم وہ دین لائے جو اطاعت کے قابل ہے آپ نے مدینہ کو مشرف فرمادیا تو آپ کے لیے ''خوش آمدید''ہے اے بہترین دعوت دینے والے۔
فَلَبِسْنَا ثَوْبَ یَمَنٍ 		بَعْدَ تَلْفِیْقِ الرِّقَاعٖ

فَعَلَیْکَ اللہُ صَلّٰی		مَا سَعیٰ لِلّٰہِ سَاعٖ
    توہم لوگوں نے یمنی کپڑے پہنے حالانکہ اس سے پہلے پیوند جوڑ جوڑ کر کپڑے پہنا کرتے تھے تو آپ پر اﷲ تعالیٰ اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے ۔ جب تک اﷲ کے لئے کوشش کرنے والے کوشش کرتے رہیں۔ 

مدینہ کی ننھی ننھی بچیاں جوشِ مسرت میں جھوم جھوم کر اور دف بجا بجا کر یہ گیت گاتی تھیں کہ ؎
Flag Counter