| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہمارے ماں باپ قربان ہوجائیں آپ چھوڑ دیجیے ہم اٹھائیں گے، تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی دلجوئی کے لیے چھوڑ دیتے مگر پھر اسی وزن کا دوسرا پتھر اٹھا لیتے اور خود ہی اس کو لاکر عمارت میں لگاتے اور تعمیر ی کام میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ آواز ملاکر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے کہ
اَفْلَحَ مَنْ یُّعَالِجُ الْمَسْجِدَا وَیَقْرَءُ الْقُرْاٰنَ قَائِمًا وَّقَاعِدًا
وَلَا یَبِیْتُ اللَّیْلَ عَنْہُ رَاقِدًاوہ کامیا ب ہے جو مسجد تعمیر کرتا ہے اور اٹھتے بیٹھتے قرآن پڑھتا ہے اور سوتے ہوئے رات نہیں گزارتا ۔(1)(وفا ء الوفاء ج ۱ص۱۸۰)
مسجد الجمعہ
چودہ یا چوبیس روز کے قیام میں مسجد قباء کی تعمیر فرما کر جمعہ کے دن آپ ''قباء'' سے شہر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، راستہ میں قبیلۂ بنی سالم کی مسجد میں پہلا جمعہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے پڑھا۔ یہی وہ مسجد ہے جو آج تک ''مسجد الجمعہ'' کے نام سے مشہور ہے۔ اہل شہر کو خبر ہوئی تو ہر طرف سے لوگ جذبات شوق میں مشتاقانہ استقبال کے لیے دوڑپڑے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کے ننہالی رشتہ دار''بنو النجار'' ہتھیار لگائے ''قباء'' سے شہر تک دورویہ صفیں باندھے مستانہ وار چل رہے تھے۔ آپ راستہ میں تمام قبائل کی محبت کاشکریہ ادا کرتے اور سب کو خیر
1۔۔۔۔۔۔وفاء الوفاء لسمہودی ، الباب الثالث، الفصل العاشرفی دخول النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ،المجلد الاول،الجزء الاول،ص۲۵۳