Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
171 - 872
تمام انصار بدن پر ہتھیار سجا کراور وجد و شادمانی سے بے قرار ہو کر دونوں عالم کے تاجدارصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے اور نعرہ تکبیر کی آوازوں سے تمام شہر گونج اُٹھا۔(1)(مدارج النبوۃ ج2 ص63 وغیرہ)

مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر جہاں آج ''مسجدقبا'' بنی ہوئی ہے۔ 12ربیع الاول کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم رونق افروز ہوئے اور قبیلۂ عمرو بن عوف کے خاندان میں حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں تشریف فرما ہوئے۔ اہل خاندان نے اس فخر و شرف پر کہ دونوں عالم کے میزبان ان کے مہمان بنے اﷲ اکبر کا پرجوش نعرہ مارا۔ چاروں طرف سے انصار جوشِ مسرت میں آتے اور بارگاہ رسالت میں صلاۃ و سلام کا نذرانہ عقیدت پیش کرتے۔ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تھے وہ لوگ بھی اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی حکم نبوی کے مطابق قریش کی امانتیں واپس لوٹا کر تیسرے دن مکہ سے چل پڑے تھے وہ بھی مدینہ آ گئے اور اسی مکان میں قیام فرمایا اور حضرتِ کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کے خاندان والے ان تمام مقدس مہمانوں کی مہمان نوازی میں دن رات مصروف رہنے لگے ۔(2)

         (مدارج النبوۃ ج 2 ص63 و بخاری ج1 ص560)

اﷲ اکبر! عمروبن عوف کے خاندان میں حضرت سید الانبیاء صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم و سید الاولیاء اور صالحین صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نورانی اجتماع سے ایسا سماں بندھ گیا ہو گا
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم دوم ، با ب چہارم، ج۲،ص۶۳ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔دلائل النبوۃ للبیہقی، باب من استقبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم...الخ، ج۲، 

ص۴۹۹۔۵۰۰ ملتقطاً ومدارج النبوت ،قسم دوم ، با ب چہارم، ج۲،ص۶۳ملخصاً)
Flag Counter